NED Scholars

Cultivating Global STEM Talent by Leveling Fields

Ebraiz

 

Ibraiz Naeem (June 4th, 2020)

Today we lost yet another of our friends. It’s a common saying that at and near 60 one should not be surprised if anyone dies. I am not sure about this. As when I see 90 years younger person on the road, driving with their significant one, I feel that 60 is a young age. I have not known Ebraiz personally, it was difficult to know everyone in a  180 students strong class. However, I do remember him during our last year at NED. He was a shy, soft-spoken, and very polite mannered person.  I am sure that there are several colleagues who know him personally and below are some of the comments they wrote on our WhatsApp group. May Allah grants Ebraiz Naeem a place in heaven, may Allah forgive all his sins and may he get the blessings of our Prophet Muhammad (PBUH) in Aakhra. Aameen.

Farrukh Jamal wrote 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Ahmed Safi: wrote the following

اف خدایا کتنی افسوسناک خبر
إنا للہ و إنا إلیہ راجعون

ابریز نعیم ہمیشہ یاد رہےگا۔۔ بہت کوشش کی تھی ڈھونڈنے کی جب کسی نے بتایا تھا کہ وہ شاید لاھور میں رہتا اہے۔۔۔ یونیورسٹی کا دور یاد آگیا جب ہم چند دوستوں نے پلان بنا کر کراچی میں انڈسٹریل وزٹس کرنے شروع کیے تھے۔ میں امجد ریحان اور ابریز تو مجھے گروپ میں یاد ہیں شاید ایک آدھ دوست اور بھی شامل رہا ہو۔۔۔ چھتیس سال پرانی بات ہوئی۔۔۔ ہم انڈسٹری میں جان پہچان نکالتے تھے اور وذٹ کرنے پہنچ جاتے تھے۔ سوئی گیس کا پلانٹ اور فلپس کی فیکٹری تو مجھےبیاد ہیں اور شپ یارڈ میں میرے ایک خالو مرحوم ایم ڈی ہوتے تھے۔۔۔ لنچ وغیرہ بھی کرایا گیا اور بہت تفصیل سے تمام شاپس دکھائی گئیں۔ بہت لطف بھی آتا تھا اور معلومات میں بھی اضافہ ہوتا تھا۔ ابریز اس سلسلے میں یوں یاد رہے گا کہ ہم سب اس دور میں پیدل ہوتے تھے اور ابریز نے ٹرانسپورٹ رضاکارانہ طور پر پیش کردی تھی خود ہمیں ڈرائیو کر کے لے جاتا تھا اور کبھی پٹرول وغیرہ کی بات نہیں کی اور جب اس نے نہیں کی تو ہم کاہے کو کرتے۔ بس ایک شکایت رہتی تھی کہ وہ ہمیں لانے لے جانے کے لیے سوزوکی پک اپ ٹرک لاتا تھا جس کے ڈالے پر ترپال کا کور تھا اور دو بنچیں لگی ہوئی تھیں۔۔۔ یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ سوزوکی اچھلتی کتنا ہے۔۔۔ اور پھر اس دور کی سڑکیں۔۔۔ بس منزل پر پہنچتے پہنچتے سارے جسم کی چولیں ہل جاتی تھیں اور بھوک ایسی چمک جاتی تھی کہ انڈسٹری کے بارے میں دل سے جو سوال نکلتا تھا وہ یہی ہوتا تھا، لنچ کرائیں گے جناب؟؟؟ اس سفر کا دوسرا بھیانک رخ زہریلی گیس تھی۔۔۔ بقول ریحان بھائی مرحوم کے، اس پک اپ ٹرک کی فلوئیڈ فلو ڈیزائننگ ٹھیک نہ تھی۔۔۔ سائیلنسر سے برآمد ہونے والی ساری کی ساری کاربن مونوآکسائیڈ ساری ڈالے کے اندر آ بھرتی تھی۔۔۔ نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ہم سب کی آنکھیں سرخ، آنسو اور کھانسی مسلسل جاری ہو جاتے تھے۔ باری باری ہم باہر کی طرف منہہ کر کے گہرے گہرے سانس لیا کرتے تھے کہ کچھ آکسیجن پکڑ کر پھیپھڑوں میں کاربن مونوآکسائیڈ کا تناسب کم کر سکیں۔ ابریز کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھنے پر جھگڑا ہوتا تھا۔۔۔ فرسٹ کم فرسٹ سروڈ والا معاملہ رہتا تھا۔ منزل پر پہنچ کر بہت دیر تک اندر داخل ہونے سے قبل اپنا حلیہ اور سانس بحال کرنا پڑتا تھا۔۔۔ پھر بھی میزبان یہی سمجھتا رہا ہو گا کہ وزٹ سے پہلے کسی کا پرسہ دے کر آ رہے ہیں۔۔۔
ہمیں سفر کا یہ حصہ برا لگتا تھا مگر ابریز کے لیے سب سے برا وقت وہ ہوتا تھا جب کوئی سینئیر میزبان اس سے پوچھتا تھا آپ ان کے ٹیچر ہیں؟؟؟ ہم لوگوں کی ہنسی چھوٹتی نہیں تھی تو کم از کم سینے میں گھٹ کر ضرور رہ جاتی تھی اور پھر واپسی کے سفر میں وہ جز بز ہوتا رہتا اور ہم سب قہقہے لگاتے رہتے۔۔۔ پھر بالآخر وہ بھی ہنس ہی پڑتا تھا۔ اللہ ہمارے بھائی کو جنت کے باغات میں ہنستا بستا رکھے۔۔۔
آخری دور میں سنا ہے کہ وہ بہت مذہبی ہو گیا تھا۔۔۔یقیناً اس نے اپنے استدلال سے اللہ کو ڈھونڈ لیا ہو گا۔۔۔ مجھے اس کی سہیل فاضل عثمانی صاحب کے ساتھ بحث یاد ہے جس میں وہ اللہ کے وجود کا ثبوت مانگتا تھا اور عثمانی صاحب زچ ہو رہے رھے تھے کیونکہ سوال ابریز کے ہوں تو جواب دینا یا مطمئن کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔ مجھے یاد ہے کلاس ہی میں یا اس کے بعد میں نے اس سے پوچھا کیا ایٹم کا وجود ہے۔۔۔ اس نے جواب دیا کیوں نہیں ہماری کیمسٹری اس پر منحصر ہے۔۔۔ پھر میں نے پوچھا اور الیکٹران پروٹان اور نیوٹران کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔ تو اس نے کہا تم بہت پیچھے ہو اور دس پانچ ایٹمی ذرّات اور بتا دیے جن کا میرے اچھوں کو بھی علم نہ تھا ۔۔۔ میں نے پوچھا، آپ نے یا کسی نے انہیں دیکھا ہے؟ سوچ میں پڑا پھر کہنے لگا نہیں مگر تجربات سے اندازہ ہوتا ہے جیسے ردرفورڈ کا گولڈ فوائل ایکسپیریمنٹ جس اے نیوکلئیس میں پروٹان کی موجودگی کا پتہ چلا وغیرہ۔ اس پر میں نے کہا دیکھا نہیں مگر تجربات اور مشاہدات نے ثابت کیا نا کہ یہ سب پارٹیکلز موجود ہیں۔۔۔ بس ایسے ہی دنیا اور کائنات میں سب مظاہر اسی کی موجودگی کا پتہ دے رہے ہیں بس نتائج اخذ کرنے کی بات ہے۔۔۔ وہ اس رقز خاموش ہو کر چلا گیا تھا۔۔۔ مجھے علم نہیں کہ اس کا مذہبی رویہ اس کے بعد کیا رہا کیونکہ میں تجسس نہیں رکھتا تھا مگر اس کے بعد اس نے عثمانی صاحب کو زچ کرنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اگر دین کی طرف آیا تھا تو خصوصی ہدایت پا کر آیا ہوگا۔۔۔ ایسے بندے شاید دنیا کی سمجھ میں بھی نہیں آتے اور وہ بھی مِس فٹ ہی ہو جاتے ہیں۔۔۔ لیکن اب وہ جنت میں گیا ہے مجھے یقین ہے وہاں بالکل فٹ ہوگا ہمارا یار۔۔۔ اللہ وہاں اس کے درجات بلند کرے آمین

 

NED Scholars © 2014-2020 Frontier Theme